نئی دہلی، 12/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو گزشتہ روز (10 اگست) لوک سبھا سے معطل کر دیا گیا تھا۔ ان کی معطلی کے خلاف آج اپوزیشن اتحاد اِنڈیا کے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمانی احاطہ میں موجود ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کے پاس احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ آج آئین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ بی جے پی حکومت اور وزیر اعظم مودی آئین کے تحت ایوان نہیں چلانا چاہتے ہیں۔
ملکارجن کھرگے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے جتنے بھی اصول ہیں، ان کو الگ رکھ کر آج ہر رکن کو دھمکی دی جا رہی ہے اور انھیں معطل کیا جا رہا ہے۔ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ معطل کر معاملے کو استحقاق کمیٹی کو بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ رکن بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں بھی نہ آئے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ادھیر رنجن چودھری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں نہ پہنچیں اور سی اے جی کی رپورٹ میں بھی حصہ نہ لے پائیں، اس لیے انھیں معطل کیا گیا ہے۔ وہ سی اے جی میں حکومت کی خامیاں اور غلطیاں ظاہر کرتے ہیں، اسی لیے انھیں معطل کیا گیا ہے۔ کھڑگے نے مزید کہا کہ جس طرح سے کانگریس کی راجیہ سبھا رکن رجنی پاٹل کو معطل کیا گیا، اسی طرح سے ادھیر رنجن چودھری کو بھی معطل کیا گیا ہے۔ بی جے پی حکومت جمہوریت کو دبانا چاہتی ہے اور آئین کے تحت نہیں چلنا چاہتی۔ اس لیے آج انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ پارلیمانی احاطہ میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت کے غیر قانونی کاموں کے خلاف اِنڈیا اتحاد لڑتا رہے گا۔ جب بھی ایوان شروع ہوگا، اس وقت بھی یہ بات رکھی جائے گی۔